जनसँख्या नियंत्रण कानून के लिए भारत बचाओ महारथ यात्रा के आगामी कार्यक्रम....           जनसँख्या नियंत्रण कानून के लिए भारत बचाओ महारथ यात्रा के तत्वाधान में विशाल जनसभा दिनांक : 18 फरवरी 2018 रविवार - ब्राम्हण सभा परेड ग्राउंड जम्मू शहर समय 10 बजे से सम्पर्क 9419109424, 9540391838            दिनांक : 18 फरवरी 2018 रविवार स्थान : दुर्गियाना मंदिर अमृतसर पंजाब समय 8 बजे शाम सम्पर्क 9888799688       चीजे खुद नहीं होती है, उन्हें करना पड़ता है .....
Sudarshan Rastra Nirman

ملک کو بچانے کی آخری کوشش "آبادی کی روک تھام کا قانون"

قومی تعمری تنظیم

کے زریے مُنعقدہ

   

                 بھارت بچاو مہا رتھ یاترا                   

    "ہم دہ ، ہمارے دہ تو سب کے دہ"

بھارت میں خطرناک طور سے بڑھتی غیر مُتوازن آبادی کی وجہ سے ملک کی یکجہتی ، اِستحکام ، اور لوگوں کی مزہبی آزادی کے حقوق پر خطرناک خطرہ پیدا ہو گیا ہے – ملک میں اکسریت والے ہندو سماج کی آبادی تیزی سے کم ہوتی جا رہی ہے- اور ملک کا آبادی کا تناسُب اِس قدر بڑھ گیا ہے کہ کئ صوبوں میں مکمل طور پر اور کچھ صوبوں میں اِلاقائ سطہ پر ہندو اقلیت میں آ چکا ہے – سند رہے کہ سن ۱۹۴۷ میں ملک کا بنٹوارا مزہب کی بنیاد پر ہی ہوا تھا- حالاں کہ کروڑوں لوگوں کی لاشیں بچھا کر ہوئے بنٹوارے کے باوجود بھارت مزہبی غیر طرف دار ہی بنا رہا ہے – آج ایک بار پھر ویسا ہی چیلینج ملک کے سامنے پھر آ گیا ہے – جہاں ایک طرف اکسریت والا ہندو سماج خاندانی فلاح کو اپنا کر کم بچے پیدا کر حکومت کی پالیسیوں کی اطبعہ کر رہا ہے، تو وہیں دوسری طرف اقلیت سماج میں بہ قابو شرہِ پیدائش آئڈیل آبادی تناسُب کے لئے خطرناک خطرہ پیدا کر رہی ہے- اصل حقیقت یہ ہے کہ بھارت کی ہفاظت تبھی ممکن ہے، جب ملک کا بنیادی آئڈیل آبادی تناسب قابو میں رہے- اسی لئے ہمنے نارا دیا ہے –
"ہم دو ہمارے دہ تو سب کے دہ"
آبادی میں بدلاو کے اس خطرناک چیلینج کے مدے نظر ملک میں آبادی پر قابو کے لئے ایک سخت قانون کی شدت سے ضرورت محسوس کی جا رہی ہے- قومی تحفظ ، یکجہتی ، سالمیت اور حاکمیت سے جڑی اس خطرناک مشکل کا ہل بغیر سخت قانون بنائے ممکن نہیں ہے – اِسی لئے قومی تعمیر تنظیم نے ملک میں آبادی پر روک تھام کا قانون بنانے کے لئے مرکزی حکومت، پارلیمان اور طمام سیاسی گروپوں پر دباو بنانے کے لئے "بھارت بچاو مہا رتھ یاترا " کے انعقاد کا فیصلہ کیا ہے-
جانے مانے سماجی کارکن اور سینیر صہافی اور مدیر جناب سریش چاہوان کی قیادت میں منعقد ہ یہ مہا رتھ یاترا ملک میں پہلی مرطبہ اس خطرناک مُدے پر ملک بھر میں عوامی بیداری کاکام کریگی – ملک میں ملک کے فاعئدہ کے کسی ایسے مدے پر کسی غیر سیاسی تنظیم اور شخص کے زرئے منعقدہ یہ پہلی اور تاریخی یاترا ہے ، جو ۱۸ فروری ۲۰۱۸ صبح ۱۱ بجے جمو سے شروع ہوگی اور ملک کے
سبھی مخصوس صوبوں سے گزرتی ہوئ قریب ۲۰ ہزار کلو میٹر کا فاصلہ طعے کر ۲۲ اپریل ۲۰۱۸ کو دلی میں اخططام پزیر ہوگی-
اس مہا رتھ یاترا میں تقریبن ۲۵ کروڑ لوگوں کے بہ ضابطہ طور پر شریک ہونے کی امید ہے- جناب سریش چاہوان کی قیادت مین منعقدہ اس یاترا میں قومی تعمیر تنظیم نے قریب ۲۰۰۰ سے زائد عام مجلسیں منعقد کرنے کی تیاری کی ہے- اس دوران یہ بھارت بچاو مہا رتھ یاترا " ملک کے تقریبن ۵۰۰۰ سے زائد شہروں سے ہوکر گزریگی جِس میں قریب ۲ لاکھ سے زائد دہات کے ہصے داری بھی ہوگی- جناب چاہوان نے اس یاترا کے دوران ملک میں آبادی پر روک تھام کا قانون بنانے کے لئے تقریبن ۱۰ کروڑ لوگوں کی زبردست ہمایت جٹانے کا ہدف رکھا ہے جس میں دستخت ، آن لائن درخواست اور مس کال شامل ہیں – اس یاترا کے خاص پڑاو جمو، چنڈی گڑھ ، لکھنوء ، بنارس ، پٹنا، کول کاتا ، بھونیشور ، حیدراباد ، ترو پتی ، بینگلور ، کنیا کماری سے لے کر ممبئ ، چینئ ، ترواننتپورم ، گاندھی نگر ، جے پور اور دہرا دون وغیرہ وں گے – پوری یاترا سیارے پر مبنی جی پی ایس کنٹرولڈ والے کیرمروں کی نگرانی میں ہوگی – اس مہا رتھ یاترا میں قریب ۱۰۰ گاڑیوں کا قافلہ ہوگا- اس دوران ملک میں آبادی پر قانون بنانے کی ضرورت بتانے کے لئے ڈوکیومینٹری کا مظاہرہ اور کل ۲۲ زبانوں میں کتاب کی شکل کی تفصیل پیش کر عوام کے سامنے
لوگوں کو بیدار کرنے کا کام کیا جائے گا- پوری یاترا کا سیدھا براڈ کاسٹ ملک کے مختلف ٹی وی چینلوں، اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمس کے زرئے مسلسل کی جائے گی- اس یاترا کو کامیاب بنانے کے لئے ملک بھر میں تقریبن ۲۰۰۰ سے زائد انجمنوں کی جا چکی ہے – یاترا کو کامیاب بنانے میں کارکنان، سماجی اراکین اور مزہبی تنظیموں کے لیڈران کے علاوہ بہت سے سینیر فوجی افسران بھی شرکت کریں گے- دِلی میں اس حساس یاترا پر نگرانی کے لئے ایک بہ ہد جدید وار روم بنایا جا چکا ہے ، جس کے زرئے "بھارت بچاو مہارتھ یاترا " کی پل پل کی تصویرشدا معلومات مُہیہ ہوتی رہے گی –
جناب سریش چاہوان نے بتایا کہ اس تاریخی بھارت بچاو یاترا کے بارے میں تفصیلی معلومات ملک کے سدر، وزیر آعظم اور مرکزی ووزرا کے علاوہ سبھی گروپوں کے لیڈران کو بھی دی جا رہی ہے – اس یاترا کو مرکزی حکومت کے کئ ووزرا ، مختلف پارٹیوں کے پارلیمان ، ایم ایل اے ، ملک بھر کے مزہبی لیڈران ، سائنس دانوں ، سماجی کارکنان ، ٹیچروں، مُختلف رضاکار تنظیموں سمیت سبھی دانش مندوں کی ہمایت مل رہی ہے- یاترا کے بارے میں مزید معلومات دینے کے لئے ایک پریس کانفرینس کا انعقاد جلد ہی دلی میں کیا جائے گا- یاترا کا پس منظر
آبادی بڑھنے کی خطرناک شکل –
بھارت کی بہت تیزی بڑھ رہی آبادی آج ایک خطرناک شکل اختیار کر چکی ہے –
آزادی سے قبل ۱۹۴۱ کے مردُم شماری میں سالمی بھارت کی آبادی تقریبن ۳۲ کروڑ تھی، جو آزادی کے بعد بنٹواوے کے باوجود ساڑھے چار کروڑ بڑھ کر ۳۲اشاریہ ۱۰ کروڑ ہو گئ- ہر دہائ میں ۲۰ فیصد کے اضافے کے ساتھ ۵۰ سالوں میں ملک کی آبادی ساڑھے تین گُنا بڑھ کر ۱۹۱۱ میں ۱۲۱ کروڑ ہو گئ – اسی طرح یہ آبادی بڑھتی رہی تو ۲۰۲۱ میں ہماری آبادی ۱۳۳ کروڑ اور ۲۰۲۶ میں ۱۴۰ کروڑ ہو جائے گی اور ہم جلد ہی چین کی آبادی کو پار کر لیں گے – ملک کی اس بڑھتی ہوئ آبادی کی اس بے لگام شرح کی وجہ صرف شرح پیدائش میں اضافہ ہی نہیں ہے ، بلکہ بانگلہ دیش اور مینمار سے منظم اور غیر قانونی طور پر گھش پیٹھ کر بھارت میں رہ رہے گھُس پیٹھیوں کی ایک بڑی تعداد بھی ہے – ایک شمار کے مطابق ۵ کروڑ سے بھی زائد غیر قانونی گھُس پیٹھیے اس وقت ملک کے مختلف صوبوں میں رہ رہے ہیں – اس غیر قانونی گھس پیٹح کی وجہ سے پشچم بنگال ، اسم اور کیرل جیسے صوبوں کا آبادی تناسب کا توازن بگڑ گیا ہے – کئ صوبوں میں اکسریت آبادی اقلیت میں آ گئ ہے – ہماری ثقافتی پحچان کی شکل بگڑتی جا رہی ہے -
بڑھتی آبادی ہمارے پچھڑے پن کی سب سے بڑی وجہ –
آبادی کی یہ غیر یکسانی اور بہ قابو بڑھت بھارت کی ترقی کی راہ میں بہت بڑی روکاوٹ ہے – مسلسل کوششوں کے با وجود انسانی ترقی شماریات میں بھارت ابھی بھی شری لنکا اور مال دیو جیسے چھوٹے ممالک سے بھی نچلی سطہ پر ۱۳۱ ویں مقام پر ہے – اُبھرتی معیشت کے معاملے میں ۷۴ ممالک میں ۶۲ ویں مقام پر، صحت شماریات کے معاملے میں ۱۹۵ ممالک میں ۱۵۴ ویں مقام پر اور تعلیمی شماریات میں ۱۴۵ ممالک میں ۹۲ ویں مقام پر نیپال ، یوگانڈا اور مالے جیسے چھوٹے ممالک سے بھی نیچے ہے- آبادی کی یہ بڑھتی ہوئ د ر کرپشن ، بہ روزگاری ، اقتسادی تنوع ، جہالت ، تغزیت کی کمہ جیسی خطرناک مشکلات کی ماں ہے – آبادی کی بڑھتی یہ در کبھی بھی بھارت کو ترقی یافطہ ممالک کی قطار میں نہیں آنے دیگی – ملک کی مکمل ترقی نہیں ہو پائے گی –
آبادی پر روک تھام کا قانون ضرری کیوں ؟ آبادی کی روک تھام کے لئے پلہے کی حکومتوں نے بھی "ہم دہ ہمارے دہ" کے نعرے کے ساتھ تحریک کی شروعات کی تھی لیکن اس پر عمل درامد میں سختی اور واضع پن کے فقدان کی وجہ سے ابھی تک اس کا کوئ سرہیا نتیجہ سامنے نہیں آ پایا ہے – آج ہم آبادی کے ایسے خطرناک موڑ پر پہنچ چکے ہیں – جہاں اگر وقت رہتے اس پر روک تھا م کے لئے سخت قانون بناکر اسے نافظ نہیں کیا گیا تو ملک
کی سالمیت اور حاکمیت خطرہ میں پڑ جائے گی اور آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی- جناب سریش چاہوان نے کہا کہ آبادی پر قابو پانے کے لئے اب "ہم دہ ہمارے دہ " کے نعرے کی جگہ "ہم دہ ہمارے دو تو سب کے دو" کہنے اور اسے عمل میں لانے کا وقت آ چکا ہے – یاد رکھیں آبادی پر قابو کا قانون بنانے کے لئے اور ملک اور مزہب کی ہفاظت کے لئے یہ ہماری آ خرہ جنگ ہے – اگر ہم ابھی اس قانون کو بنوا پائے تو شاید پھر کبھی نہیں بنوا سکیں گے – اس قانون کو بنانے کے

لئے آپ سے زیادہ سے زیادہ تعاون کی ضرورت ہے – کیا آپ جانتے ہیں کہ آپنے جتنے وقت میں اس پریس رلیز کو پڑھا ، صرف اتنے ہی وقت میں ۲۵۰ سے زائد بچوں نے جنم لے لیا؟


اشاعت اور اطلع کے لئے پیش
میجر جنرل ایس پی سنہا
کنوینر
بھارت بچاو مہا رتھ یاترا
راشڑرا نرمان سنگٹھن
بالا جی مشرا
میڈیا پرابھاری
بھارت بچاو میا رتھ یاترا
راشٹرا نرمان سنگٹھن